کتب سماوی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - چاروں آسمانی کتابیں؛ الہامی کتابیں، کتبِ اربعہ۔ "کتب سماوی و سرایسی کی بحث میں ان کے متن کی الوہی یا الہامی نوعیت کو بہرحال پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو میں اصولِ تحقیق، ٣٥٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق اسم جمع 'کُتُب' کو کسرۂ صفت کے ذریعے عربی ہی سے مشتق صفت 'سماوی' کے ساتھ ملانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتی ہے ١٩٨٦ء کو "اردو میں اصولِ تحقیق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چاروں آسمانی کتابیں؛ الہامی کتابیں، کتبِ اربعہ۔ "کتب سماوی و سرایسی کی بحث میں ان کے متن کی الوہی یا الہامی نوعیت کو بہرحال پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو میں اصولِ تحقیق، ٣٥٠ )

جنس: مؤنث